آیا[1]

قسم کلام: حرف استفہام

معنی

١ - کلمہ استفہام، سوال یہ ہے، دریافت طلب بات یہ ہے، پوچھنا یہ ہے اکثر اس کے بعد "یا" یا "کیا" مستعمل ہے۔  آیا یہ قویٰ فنا نہ ہوں گے معدوم کبھی یہ کیا نہ ہوں گے      ( ١٩٢٧ء، تنظیم الحیات، ٣٩ ) ٢ - شاید۔ (جامع اللغات، 83:1) "اس نے کہا اے عزیز آیا تجھے خلل دماغ ہوا ہے۔"      ( ١٨٤٦ء، قصہ اگرگل، ٢٧ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور 'کلمہ استفہام' مستعمل ہے۔ اردو میں بھی اصلی معنی یعنی بطور استفہام ہی مستعمل ہے اس لیے مختص حروف کی ذیل میں شمار ہوتا ہے سب سے پہلے ١٧٣٢ء میں "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کلمہ استفہام، سوال یہ ہے، دریافت طلب بات یہ ہے، پوچھنا یہ ہے اکثر اس کے بعد "یا" یا "کیا" مستعمل ہے۔  آیا یہ قویٰ فنا نہ ہوں گے معدوم کبھی یہ کیا نہ ہوں گے      ( ١٩٢٧ء، تنظیم الحیات، ٣٩ ) ٢ - شاید۔ (جامع اللغات، 83:1) "اس نے کہا اے عزیز آیا تجھے خلل دماغ ہوا ہے۔"      ( ١٨٤٦ء، قصہ اگرگل، ٢٧ ) ٣ - بتاؤ تو، آخر "مقابلے کی رائے دیتے ہیں تو اس کا انجام آیا کیا ہو گا۔"